30 جون 2013 - 19:30
مصر میں مظاہرے جاری، فوجی بغاوت کاخطرہ

مصر میں صدرمحمد مرسی کےخلاف بڑے پیمانے پراحتجاجی مظاہرے کے ایک دن بعد صدر مرسی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اقتدار سے الگ نہیں ہوں گے۔

ابنا: مصری صدر محمدمرسی نے روزنامہ گارڈین کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا استعفی مصر ميں نظام کے کمزور ہونے اور اس ملک میں افرا تفری پھیلنے کا باعث ہوگا۔صدرمرسی نے اعلان کیا ہے کہ مصر میں کوئی دوسرا انقلاب نہيں آنے والا ہے البتہ مظاہرہ کرنا عوام کا حق ہے ۔صدرمرسی نے دعوی کیاہے کہ ذرائع ابلاغ ان کےخلاف ہونےوالے مظاہروں کو بڑھا چڑھا کرپیش کررہے ہیں اور اس کا سبب انقلاب مصر سے ان کی دشمنی ہے۔مصر میں ہونےوالے حکومت کےحامیوں اورمخالفین کےمظاہروں نے اس ملک کی سیکورٹی کی صورت حال غیرمستحکم کردی ہے۔صدرمحمدمرسی کے اقتدار سنبھالنے کوایک سال پورا ہونے پر تیس جون سےان کے مخالفین ، مصر کے مختلف علاقوں میں مظاہروں کےذریعے اپنی طاقت کا مظاہرہ کررہے ہيں ۔مخالفین ، بائیس ملین دستخط اکٹھا کرکے اقتدار سے محمدمرسی کی برطرفی کےخواہاں ہيں ۔مصر کے دارالحکومت قاھرہ کی سڑکوں  پر فوج تعینات ہونے کے باوجود ، حمدین صباحی کی زیرقیادت سول نافرمانی تحریک نے تاکید کی ہے کہ جب تک محمد مرسی اقتدار سے الگ نہيں ہوتے اس وقت تک پرامن مظاہروں کا سلسلہ جاری رہے گا۔مظاہرین کا دعوی ہے کہ تحریک اخوان المسلمین جوصدر مرسی کی حامی ہے ، اقتدار پر اپنا کنٹرول چاہتی ہے ۔محمدمرسی کےحامی ، قاہرہ کےشمال میں واقع شہر النصر میں جمع ہوکر صدر کی قانونی حکومت کا دفاع کررہے ہيں اور مخالفین پر ملک میں بدنظمی ، انارکی اور آشوب بپا کرنے کا الزام لگا رہے ہيں۔مصر کے ٹی وی چینل کا کہنا ہے کہ قاہرہ اوراسکندریہ شہروں میں مخالفین کے مظاہروں کی اس سے پہلے کوئی مثال نہيں ملتی ۔مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں میں اب تک چھ افراد ہلاک اور سو سےزیادہ زخمی ہوچکے ہيں ۔مصری فوج نے حکومت کے حامیوں اورمخالفین کےدرمیان ٹکراؤ بڑھنے پراپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کےپرتشدد نتائج کی جانب سے خبردار کیاہے۔ اب بھی ہزاروں افراد تحریراسکوائر پر اکٹھا ہیں اورمرسی کےاستعفے کامطالبہ کررہے ہيں اور اپنے مطالبات تسلیم کئے جانے تک مظاہرے جاری رکھنے پرتاکیدکررہے ہيں ۔مظاہروں کا سلسلہ بدستور جاری ہے ۔بعض ذرائع نے پیشگوئی کی ہے کہ اگرمصر میں بدامنی کا سلسلہ جاری رہا تو فوجی بغاوت کا خطرہ ہے۔اس نظریے کےحامل افراد کی نظر میں فروری دوہزارگیارہ میں مصر میں آنے والےاٹھارہ روزہ انقلاب نے مصر میں فوج کے تاریخی اثرو نفوذ کو محدود  تو کردیا لیکن فوجیوں کواقتدار کےڈھانچے سے الگ نہيں کرسکا، حسنی مبارک کی برطرفی کےبعد فوج کے جنریلوں نے اقتدار انقلابیوں کےحوالے کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔اس وقت فرانس ، امریکہ، اوربرطانیہ نے اپنے شہریوں کو مصر چھوڑنےکی ہدایت جاری کردی ہے۔ قاہرہ میں سعودی سفارت خانہ بند کردیاگیاہے ۔ مصر کےعلماء نے بھی سیاسی پارٹیوں اور گروہوں کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔...../169